Showing posts with label سما ج. Show all posts
Showing posts with label سما ج. Show all posts

Thursday, November 14, 2019

کاش! ھم ریاست مدینہ کے شہری ھوتے




تحرير: لعزراللہ رکھا ۔ ايڈوکيٹ

آر پی او افس بہاولپور میں ایک بڑے فریم میں قرآن پاک کی ایک آیت آویزاں ھے جس کا اردو ترجمہ اور مہفوم یوں ھے(اگر کوٸی لفظ اوپر نیچے ھو جاۓ تو معاف کیجۓ گا) کہ حضرت مُحَمَّد ﷺ نے فرمایا کہ اگر کسی مسلمان نے کسی غیر مسلم پر ظلم کیا تو قیامت کے روز آپ مُحَمَّد ﷺ اس ظالم مسلمان کے مقابلہ میں مظلوم غیر مسلم کی طرف کھڑے ھونگے،اسلام کا فلسفہ انصاف سمجھنے کے لیۓ مکمل غیر جانبدار اپروچ ضروری ھے کیونکہ ھم اسلام کو موجودہ دور کے واقعات،مولانا حضرات کی ذاتی تشریح اور اپنی ناگفتہ بہ حالت کے تناظر میں دیکھ کر ایک جانبدار سوچ کے حامل ھوجاتے ھیں جس سے ھم اسلامی تعلیمات کے اصل جوھر سے ناواقف رھتے ھیں موجودہ دور میں یہ سچ ھے کہ ھماری عدالتیں مذھبی کیسز میں جانبداری کا مظاھرہ کرتی ھیں،مذھبی اور حساس نوعیت کے کسیز پر جج کے مذہبی جذبات غالب رھتے ھیں۔

حکومت اور ادارے مسلم اور غیر مسلم کے درمیان امتیاز کرتے ھیں اقلیتوں کے قیمتی ادارے چھین لیۓ جاتے ھیں، جرم ثابت ھونے سے قبل ھی ملزم قتل کر دیے جاتے ھیں نابالغ بچیوں کو مذھب کی بھینٹ چڑھا کر ھوس پرستی کی جاتی ھے غرضیکہ مذھب اور مسلک کے نام پر عجیب و غریب قسم کے فتوے اور فیصلے ھوتے ھیں جن کا اصل اسلام سے کوٸی تعلق نہیں ھے مدینہ طرز کی ریاست میں قاضی حاکم وقت کے خلاف فیصلے دیتے نظر آتے ھیں

 حضور پاکﷺ یہودی (غیر مسلم) بچی کا سر ڈھانپتے نظر آتے ھیں،قاضی کی عدالت میں مسلمان کے مقابلے میں غیر مسلم مقدمہ جیتتے نظر آتے ھیں۔ جرم ثابت کرنے کے لیے کم از کم دو متقی اور پرھیز گار غیر جانبدار گواھان ضروری ھیں، جرم ثابت ھونے سے قبل کسی کو قتل نہیں کیا جاۓ گا جس نے ایک انسان کو ناحق قتل کیا گویا پوری انسانیت کو قتل کیا ،غیر مسلم شہریوں کے عقائد، مذہبی مقامات کے تحفظ کا وعدہ نظر آتا ھے ،معاھدہ سینٹ کیتھراٸن نظر آتا ھے جس پر حضور ﷺ اپنے دست مبارک کی مہر کرتے ھیں کہ تاقیامت مسلمان اس معاہدہ کی پاسداری کریں گے ۔انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جاتے تھے آج ایک غریب بے بس اور مجبور بچو رام کے بارہ سالہ بیٹے موھن رام کو جبری عبدالرحمنٰ بنا دیا جاتا ھے اور کوٸی عدالت اس غریب کی فریاد سننے اور انصاف کرنے کو تیار نہیں سب کسی نہ کسی مصلحت کا شکار ھیں عدالتیں بھی اور حکومتیں بھی ۔مدینہ طرز کی ریاست قاٸم کرنا بذدلوں اور مصلحت پسندوں کے بس کی بات نہیں،ریاست مدینہ کے تمام شہریوں کو بلاتفریق خالص انصاف میسر تھا، کاش ھم بھی بحثیت غیر مسلم مسیحی ریاست مدینہ کے شہری ھوتے،تاکہ ھماری عزت، جان مال اور ادارے بھی محفوظ ھوتے.

Tuesday, October 29, 2019

بلوچستان يونيورسٹی: لرزہ دينے والے انکشاف



تحرير: محمد کاظم

پاکستان میں صوبہ بلوچستان کی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا ہے کہ یونیورسٹی آف بلوچستان میں ہراسانی کے حوالے سے جو دعوے سامنے آئے ہیں وہ خدا کرے کہ درست نہ ہوں کیونکہ اگر وہ درست ہوئے تو پھر ہم اس قابل نہیں کہ انسان کہلوائیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایسی باتیں بھی سامنے آئی ہیں کہ 'اے گریڈ چاہیے یا فیل ہونا ہے، سکالر شپ پر آسٹریلیا جانا ہے یا امریکہ جانا ہے یا کہیں نہیں جانا۔'

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ہم سب نے مل کر دو کام کرنے ہیں ایک یہ کہ یونیورسٹی کی ساکھ بحال ہواور دوسرا یہ کہ جو لوگ ہراسانی کے واقعات میں ملوث رہے ہیں ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

یہ ریمارکس انھوں نے یونیورسٹی میں طالبات کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیے۔

کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم دو رکنی ڈویژنل بینچ نے کی۔

سماعت کے موقع پر بلوچستان اسمبلی کے پارلیمانی کمیٹی کے اراکین، یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر محمد انور پانیزئی، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے نمائندوں کے علاوہ وکلا کی بہت بڑی کمرہ عدالت میں موجود تھی۔

سماعت کے دوران ایف آئی اے کے حکام نے ایک مرتبہ پھر یونیورسٹی میں خفیہ کیمروں کے استعمال کے حوالے سے ایک رپورٹ اس درخواست کے ساتھ پیش کی کہ تحقیقات مکمل ہونے تک اسے افشاں نہ کیا جائے، تاہم چیف جسٹس نے ایف آئی اے کی رپورٹ سے بلوچستان اسمبلی کے اراکین کو آگاہ کرنے کے لیے انھیں اپنے چیمبر میں طلب کیا۔

قائم مقام وائس چانسلر کی بے بسی

سماعت کے دوران جب چیف جسٹس نے قائم مقام وائس چانسلر سے کہا کہ وہ قانون کی مطابق کارروائی کریں تو وہ اپنی بے بسی کا اظہار کرتے رہے۔

چیف جسٹس نے انھیں کہا کہ قانون کے تحت انہیں ہراسانی سے متعلق معاملات کی تحقیقات اور اس کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مکمل اختیار ہے۔

انھوں نے وائس چانسلر کو کہا کہ اگر وہ قانونی کے مطابق کارروائی نہیں کر سکتے تو وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔

بلوچستان اسمبلی کے اراکین نے کیا کہا؟

بلوچستان اسمبلی کی تحقیقاتی کمیٹی کے اراکین چیئر پرسن مہ جبین شیران کی قیادت میں پیش ہوئے۔

چیئر پرسن نے کہا کہ انہیں ہراسانی کے حوالے سے بہت ساری شکایتیں فون اور واٹس ایپ پر موصول ہوئیں لیکن متائثرین میں سے تاحال کوئی بھی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوا۔

کمیٹی کے رکن ثنا بلوچ نے کہا کہ یونیورسٹی میں بڑی تعداد میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں لیکن ان کو استعمال کے حوالے سے کوئی سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی میں جو لوگ سکیورٹی یا سی سی ٹی وی کو آپریٹ کرنے پر معمور ہیں ان کی اخلاقی اور ہمارے سماجی اقدار کے حوالے سے تربیت ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت لوگوں کی نگاہیں عدلیہ، بلوچستان اسمبلی اور ایف آئی اے پر لگی ہوئی ہیں۔

اسمبلی کی رکن شکیلہ نوید دیوار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کچھ عرصہ بیشتر سکیورٹی اہلکار گرلز ہاسٹل میں رات کو آئے اور وہاں کمرہ نمبر دو کو خالی کرایا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہاسٹل میں لڑکیاں چیختی رہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور رات کو یہ لوگ کیوں آئے ہیں؟

انھوں نے بتایا کہ جب کمیٹی کے اراکین نے ہاسٹل کے چوکیدار سے پوچھا کہ انھوں نے سکیورٹی اہلکاروں کو کیوں چھوڑا تو ان کا جواب یہ تھا کہ وہ ہاسٹل کے دروازے سے نہیں آئے بلکہ سیڑھیاں لگا کر اندر داخل ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ اس کی ویڈیو بھی ہے جسے وہ چیمبر میں فاضل ججوں کو دکھائیں گی۔

اس بات پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وائس چانسلر سے کہا کہ سکیورٹی اہلکار وہاں حفاظت کے لیے ہیں یا لوگوں کو ہراساں کرنے کے لیے۔

ہیومن رائٹس کمیشن کے نمائندے نے کیا کہا؟

ہراسانی کی خبروں کے بعد ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اراکین نے بھی یونیورسٹی کا دورہ کیا تھا۔

کمیشن کے بلوچستان چیپٹر کے سربراہ حبیب طاہر ایڈووکیٹ نے بتایا کہ کمیشن کے اراکین نے نہ صرف اب یونیورسٹی کا دورہ کیا ہے بلکہ اس سے پہلے بھی ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن نے بھی یونیورسٹی کے امور کا جائزہ لیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے اندر فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد تعینات ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا گھر، جمنازیم اور ایک ٹیچرز ہاسٹل بھی ایف سی کے استعمال میں ہے۔

انھوں نے کہا کہ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یونیورسٹی کی اپنی سکیورٹی کافی ہے اس لیے ایف سی کے اہلکاروں کی یونیورسٹی کے اندر تعیناتی کی ضرورت نہیں ہے۔

اس موقع پر ایک خاتون وکیل جمیلہ ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ایف سی کے اہلکاروں نے یونیورسٹی کے اندر ایک تفتیشی مرکز بھی بنایا ہے جہاں وہ باہر سے لوگوں کو گرفتار کرکے تفتیش کے لیے لاتے ہیں۔

چیف جسٹس نے اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وائس چانسلر کو ہدایت کی کہ وہ جمنازیم، ٹیچرز ہاسٹل اور وائس چانسلر کے گھر کو دو دن کے اندر ایف سی کے اہلکاروں سے خالی کرائیں۔

ہراسانی سے متاثرہ کوئی شخص ایف آئی اے پیش نہیں ہوا

بلوچستان کے قبائلی ماحول کی وجہ سے ہراسانی کے متاثرہ کوئی بھی خاتون ایف آئی اے میں کیس رجسٹر کرانے کے لیے سامنے نہیں آئیں جس پر عدالت کے کہنے پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان شہک بلوچ شکایت کنندہ بننے تھے۔

انہوں نے سماعت کے دوران بھی ہراسانی کے ایک کیس کا حوالہ دیا۔

انھوں نے عدالت کو بتایا کہ 'ایک ڈیپارٹمنٹ کی طالبہ کو اس کے ایک ٹیچر نے کہا کہ آپ کا سمسٹر ڈراپ ہو رہا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو میں اس کو ڈراپ نہیں ہونے دوں گا۔اس طالبہ کو اس کے ڈیپارٹمنٹ کے دو ٹیچروں نے تین گھنٹے تک اپنے پاس بٹھائے رکھا۔'

انھوں نے کہا کہ ہراسانی کے حوالے سے اب تک یونیورسٹی کے چھوٹے گریڈ کے چار اہلکاروں کو معطل کیا گیا لیکن معاملے کو اس سے آگے کیوں نہیں بڑھا گیا۔

انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ کل ایف آئی اے والے آئیں گے اور یہ بتائیں گے کہ متاثرین میں سے کوئی سامنے نہیں آیا اس لیے کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ اس کے ساتھ وہ یہ بھی بتائیں گے کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے فلاں فلاں گائیڈ لائنز پر عملدرآمد کیا جائے ۔

تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت ایسا نہیں ہونے دے گی کیونکہ یہ معاملہ نہ صرف اس بینچ کے اراکین دیکھ رہے ہیں بلکہ عدالت کے تمام جج اس کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے وائس چانسلر اور ایف آئی اے کے حکام کو کہا کہ 'جو بھی ان واقعات میں ملوث ہو ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں خواہ اس میں میں خود (چیف جسٹس ) ہی کیوں نہ ہوں۔'

انھوں نے کہا کہ متاثرین کو ایف آئی اے یا بلوچستان اسمبلی کی کمیٹی کے سامنے پیش ہونا چاہیے تاکہ ان واقعات میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

عدالت نے کیا احکامات دیے؟

عدالت نے کیس کی سماعت 15دن بعد تک ملتوی کرتے ہوئے ایف آئی اے کے حکام کو حکم دیا کہ وہ اپنی تحقیقات جاری رکھیں۔

عدالت نے وائس چانسلر کو حکم دیا کہ وہ یونیورسٹی کی جمنازیم، وائس چانسلر کے گھر اور ٹیچرز ہاسٹل سمیت ان تمام مقامات کو ایف سی اہلکاروں سے خالی کرائیں جو کہ طلبا اور اساتذہ کے لیے مختص ہیں۔

عدالت نے کہا کہ کیس کی سماعت کے دوران یہ دلائل بھی سامنے آئے کہ یونیورسٹی کے اندر فرنٹیئر کور کی ضرورت نہیں۔

عدالت نے کہا کہ چیف سیکرٹری، وائس چانسلر، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کواس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ اگر ایف سی کی ضرورت ہے تو ان کے لیے یونیورسٹی کے باہر کون سی جگہ مختص ہونا چاہیے۔

Monday, October 14, 2019

ساٸبر کراٸم, احتیاط کجیۓ




تحرير:لعذر اللہ رکھا ایڈووکيٹ

آپکا ایک غلط کلک آپکو موت کے منہ میں لے جا سکتا ھے۔


آجکل سوشل میڈیا کا جادو سر چڑھ کر بول رھا ھے، خاصکر نوجوان نسل کو سوشل میڈیا کی لت نشے کی حد تک لگ چکی ھے، شہروں سے لیکر دورہ افتادہ گاوُں تک فیس بک، واٹس اپ مسینجر کا دن رات بے دردی سے استعمال کیا جارھا ھے,اور یہ انسان کا بنیادی حق بھی ھے،جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا بری بات نہیں اس کا غلط استعمال بری بات ھے، آج کل زیادہ تر توھین مذھب کے کسیز کی بڑی وجہ فیس بک،واٹس اپ ،ای میل اور مسینجر کا غلط اور احمکانہ استعمال ھے اور یہ کیسز توھین آمیز پوسٹس کی وجہ سے رجسڑڈ ھورھے ھیں، سمارٹ فونز پر لاپرواھی اور غفلت کی بنا پر حالیہ دور میں متعدد ایف آٸی آر ھوٸی ھیں، آپ کے سمارٹ فون سےلاعلمی یا بےاحتیاطی سے اگر کوٸی توھین آمیز مواد لاٸک یا شیٸر ھوا تو آپ اپنے ساتھ اپنے خاندان اور پوری برادری کو جان لیوا مصیبت میں ڈال لیں گے ،ھر شخص کو پتہ ھونا چاھیے کہ تمام مقدس ھستیوں کی شان میں توھین آمیز کنٹینٹ لاٸک کرنا، پوسٹ کرنا شٸیر کرنا سنگین جرم ھے، اور پریوینشن آف الیکٹرونک کراٸم ایکٹ2016 کے تحت اس کی سزا،سزاۓ موت تک ھوسکتی ھے.

 ایف آٸی اے اس کا تفتیشی ادارہ ھے، اور اگر کسی بھی طریقے سے آپ کا سمارٹ فون اس جرم کا ارتکاب میں پایا گیا تو سمجھیں جیل کی کال کوٹھری آپ کی منتظر ھے اور لمبے عرصہ تک آپ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ھیں،

اس ضمن میں چند احتیاطی تدابیر:-

فیس بک واٹس اپ میسنجر پر کسی مذھبی گروپ میں ایڈ نہ ھوں، اگر ھیں تو فوری نکل جاٸیں۔کسی بھی قسم کے فیس بک یا واٹس اپ پر مذھبی گروپ کے ایڈمن نہ بنیں،کسی بھی مذھبی بحث میں حصہ نہ لیں نہ لاٸک کریں اور نہ شٸیر کریں۔کسی بھی توھین آمیز مواد کو فوری اپنے اکاونٹ ڈی پی اور گیلری سے ڈیلیٹ کردیں، اور سینڈر کو مستقل بلاک کر دیں، اپنا فیس بک اور واٹس اپ اکاونٹ اپنی گیلری بھی توھین مواد سے صاف رکھیں۔کسی فرقہ وارانہ تقریر لیکچر اور وڈیو کو پسند نہ کریں۔اپ لوڈ اور نہ ھی ڈاون لوڈ کریں۔کوٸی ھتک آمیز کومنٹ نہ کریں اور نہ کسی کے بھی مذھبی جذبات کو ٹھیس پہنچائیں۔اپنی فرینڈ لسٹ مختصر اور سلجھے لوگوں تک محدود رکھیں، غیر ضروری فرینڈز کو ڈیلیٹ کرنا شروع کریں۔

مذھبی سکالر بننے کی کوشش نہ کریں، اور نہ ھی مذھبی اشتعال دلانے والی پوسٹ کریں جنونی اور انتہا پسند لوگوں کو فالو نہ کریں چاھیۓ مسیحی عالم ھی کیوں نہ ھوں، تمام مذاھب کی مقدس ھستیوں کا احترام آپ کی قانونی، اخلاقی اور مذھبی ذمہ داری ھے. ذرا سے لاپرواھی اور بے احتیاطی سے آپکا سمارٹ فون آپ کے لٸے پھانسی کا پھندہ بن سکتا ھے۔پلیز شٸیر کجیۓ۔


Sunday, October 13, 2019

عورت، صنفی تعصب اور ہمارے سماجی رویے



تحرير: دلاورحسين

مذہب، ثقافت، لسانیت اور جغرافیہ کی بنیاد پر جنم لینے والے تعصبات کے ساتھ صنف کی بنیاد پر پروان چڑھنے والے تعصبات بھی ہر معاشرے کا حصہ ہیں۔ تاہم صنفی تعصبات کی شدت اور حجم کا ایک معاشرے سے دوسرے معاشرے میں فرق ہے۔ اسی طرح صنفی تعصب کے پیچھے کارفرما عوامل اور ان تعصبات کے تدارک کےلیے قوانین اور اقدامات میں بھی فرق ہے۔ تاہم ہر معاشرے میں صنفی تعصب کی مشترک اور مستقل قدر اس تعصب کا شکار ’صنفِ نازک‘ کا ہونا ہے۔

اگر ہم اپنے معاشرے کی بات کریں تو ہمیں صنفی تعصب کی بنیاد پر عورت کو روایتی طور پر مرد کی نسبت زیادہ جذباتی، کم عقل، کمزور، تابع اور مرد پر انحصار کرنے والی صنف تصور کیا جاتا ہے۔ عورت کو مرد کے ماتحت اور ملکیت سمجھا جاتا ہے۔ عورت کو ’معصوم‘ مرد کو بہکانے اور گمراہ کرنے والی مخلوق کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

ان دلائل کو ثابت کرنے کےلیے مذہبی اور ثقافتی روایات کو بطورِ استدلال پیش کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر عیسائی مذہبی روایت کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کو ممنوع پھل کھانے پر حضرت حوا علیہ السلام نے بہکایا، جس کا خمیازہ حضرت آدم کو زمین پر بھیجنے اور دنیا کی صعوبتیں برداشت کرنے کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ اسلام میں عورت کو دوسرے درجہ کی مخلوق ثابت کرنے کےلیے عورت کو مرد کے پیچھے نماز پڑھنے کو بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے۔ رجعت پسند یہودیت کے ہاں عورت کو مذہبی رسومات میں بطورِ ناظر اور مشاہدہ کےلیے شرکت کی اجازت ہے اور نہ برابر شراکت اور شمولیت کی۔

مذہب کے علاوہ اگر ہم اپنے آرٹ، ادب، سیاست، معیشت اور دیگر معاشرتی اداروں پر نظر ڈالیں تو ہمیں واضح صنفی تعصب اور عورت کا دوسرا درجہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ کسی بھی ثقافت میں پائے جانے والے عوامل کی بات کریں تو رسم و روایات اور عقائد کی نسبت اس کی زبان کا غلبہ واضح اور اہم ہوتا ہے۔ اگر ہم اردو اور دیگر مقامی زبانوں کے ادب کا غیر جانبدانہ مشاہدہ کریں تو ہمیں واضح طور پر مرد کی نسبت عورت کا ذکر بہت کم اور دوسرے درجہ کی مخلوق کے طور پر ملتا ہے۔ عورت کے معاشرتی اور سیاسی مثبت کردار اور قربانیوں کا بہت کم تذکرہ کیا جاتا ہے۔ مرد کی بہادری کے قصے، اس کی تاریخ، اور اس کا سیاست و معاشرے میں کردار تو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا جبکہ عورت کے معاشرتی اور سیاسی کردار کا ذکر نہ ہونے کے برابر ہے۔ چند باظرف شعرا اور نثرنگاروں کے علاوہ عورت کی خوبصورتی، حسن اور نازکی کا بیان بیہودہ، رذیل، عامیانہ، ناشائشتہ اور اوچھے انداز اور جسمانی تفصیل میں ملتا ہے۔ نثر میں بھی مرد کو طاقت کا مرکز جبکہ عورت کو سست، غیر مزاحمتی، غیر متحرک، غیر فعال صنف کے استعارہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ عورت کی جسمانی نمائش صرف ادب میں نہیں بلکہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں چلنے والے اشتہارات سے بھی ہوتی ہے، جس میں عورت کی صنفی نمائش کرکے متعلقہ صنعت اور مصنوعات کی طرف صارفین کی توجہ حاصل کرنے کےلیے استعمال کیا جاتا ہے۔

روزمرہ زندگی کا مشاہدہ کیجئے۔ قصور بھائی، باپ، بیٹے یا شوہر کا ہوگا بدزبانی اور گالم گلوچ قصوروار کی بہن، بیٹی، ماں اور بیوی کو دے کر حساب برابر کیا جاتا ہے۔ لڑائی جھگڑا، قتل وغارت مرد کرے لیکن بطور ہرجانہ اور قصاص عورت کو بھینٹ چڑھایا جاتا ہے۔ تعلیم کا شعبہ دیکھ لیجئے۔ بیٹے اور بھائی کی نسبت بیٹی اور بہن کو تعلیم کے بنیادی حق سے محض یہ کہہ کر محروم کردیا جاتا ہے کہ ’ہم نے کون سا استانی لگوانی ہے‘۔ معیشت میں دیکھیں تو عورتوں کی ملازمت میں تنخواہ کم اور پیشہ ورانہ درجہ عموماً مردوں کی نسبت نچلا ہوتا ہے۔ ایسے پیشے جن سے عورتیں منسلک ہیں مثلاً نجی اسکول ٹیچرز، بچوں کی نگہداشت اور گھریلو ملازمہ کا معاوضہ انتہائی کم ہے۔ مزید برآں ذہنی پریشانی، ذلت اور جسمانی ہراسیت کا سامنا کرنا پڑتا۔ اسی طرح کاروبار، شعبہ تعلیم، آرمی، سرکاری و غیر سرکاری اور دیگر معاشی و سیاسی اداروں کی سرپرستی اور قیادت میں عورتوں کا تناسب بہت کم ہے۔

محولہ بالا بیان کردہ استحصال کے علاوہ عورت کی سب سے خطرناک تصویر اسے مرد کی پرتشدد فطرت کے مقابلے بے بس، بے اختیار، ناتواں، لاچار، کمزور، عاجز، مجبور، کند ذہن اور ناسمجھ مخلوق کے طور پر پیش کیا جانا ہے۔ عورت کی بیان کردہ اس تصویر کی وجہ سے اسے احساس کمتری، ذہنی اذیت کے ساتھ مرد کے ہاتھوں جنسی ہراسانی، گھریلو تشدد جیسے منفی رویوں کا سامنا رہتا ہے۔

عورت کو مرد کے تجویز کندہ اور حاکمانہ رویے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عوامی مقامات اور بازار جانے کےلیے ان کے ساتھ ’قابل اعتماد‘ مرد کا ہونا لازم قرار ہے۔ اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ یا تو وہ خود مرد کی ہوس بھری نظروں کا سامنا نہیں کرسکتی یا پھر اسے گھر سے ’اجازت‘ نہیں ملتی۔ یوں ان کا اکیلے آنا مبینہ پردے کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔ ہم بجائے اس کے کہ اپنی بیمار ذہینت کا ماتم کریں الٹا عورت کو ’بے حیائی‘ کی علامت قرار دیتے ہیں۔ 

مرد تو پسند کی شادی کرسکتے ہیں جبکہ ہماری بہن یا بیٹی اپنا یہ اسلامی اور آئینی حق استعمال کرنا چاہے تو ہماری ’غیرت‘ آڑے آجاتی ہے۔ حالانکہ بیٹی کی پسند ناپسند کا خیال رکھنا عین سنتِ نبویؐ ہے۔ آپؐ نے حضرت فاطمہؓ کا حضرت علیؓ سے نکاح کرنے سے پہلے رائے اور رضامندی پوچھ کر نکاح کیا۔ جب ہم اپنی انا اور نام نہاد عزت کی خاطر اپنی بیٹی اور بہن کی مرضی کے خلاف اقدام اٹھاتے ہیں تو اس کے نتیجے میں گھریلو ناچاقی اور طلاق جیسے معاشرتی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اگر چار و ناچار ہماری بہن، بیٹی ہماری انا کے سامنے جھکنے سے انکار کردے تو ہم اسے ’غیرت‘ کے نام پر قتل کردیتے ہیں۔

چھوٹی عمر میں شادی ایک اور سنگین مسئلہ ہے۔ باپ بعض اوقات محض اپنے معاشی مفادات کی خاطر معصوم بیٹیوں کی ان سے کئی گنا بڑی عمر کے مردوں سے شادی کردیتے ہیں۔ اس سے نہ صرف بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ زچہ وبچہ دونوں پر پوری زندگی مضر صحت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ہم عورت کو ’سبق‘ سکھانے کےلیے طلاق دے دیتے ہیں۔ جس سے عمر بھر کےلیے وہ ذہنی، معاشی اور معاشرتی تذلیل کا شکار رہتی ہے۔ اگر کوئی عورت ہماری ہوس کا شکار بننے سے انکار کردے تو ہم اس پر تیزاب پھینک کر اس کو ساری زندگی کےلیے اس لہے اپاہج بنادیتے کہ ’میرے نہیں تو کسی اور جوگی بھی نہیں رہے گی‘۔

عورت کو اول تو سوشل میڈیا تک رسائی بہت کم ہے، لیکن جن کو ہے اگر وہ ہماری رائے کے مخالف رائے رکھنے کا ’ناقابل معافی‘ جرم کرلیں تو ہم ان کی کردارکشی اور عزت پر کیچڑ اچھالنا اپنا ’فرض‘ سمجھتے ہیں۔ ہمارے ان رویوں کی وجہ سے عورت کا انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کردار سکڑ کر رہ گیا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صنفی تعصب اور معاشرتی ناانصافی کی وجوہات کیا ہیں اور ان کا تدارک کیسے کیا جاسکتا ہے؟ ان وجوہات میں ہماری بیمار ذہنیت، مرد ’اسٹیٹس کو‘ کے خاتمے کی خوفزدگی، بنیادی آئینی و اسلامی اصولوں سے لاعلمی، تعلیم کا فقدان، ہٹ دھرمی، اور سب سے بڑھ کا عورتوں کا ان کے آئینی حقوق سے لاعلمی ہے۔

ہمارے ہاں ایک طبقہ ہے جو عورت کو صرف اور صرف گھر کی زینت بنائے رکھنے کا قائل ہے، جبکہ دوسرا طبقہ اس کے برعکس تمام بنیادی معاشرتی حدود وقیود کو روند کر عورت کی آزادی کی بات کرتا ہے۔ تاہم ان دونوں گروہوں کے دلائل اپنی جگہ، ہمیں اعتدال کا راستہ اپنانا ہے۔

اگرچہ عورت اور مرد کے درمیان جسمانی (بائیولوجیکل) مساوات اور مماثلت نہیں ہے، تاہم اس درجہ بندی اور فرق کی اہمیت اپنی جگہ قائم رکھتے ہوئے اس فرق کو دوسرے درجہ کا سمجھا جائے۔ یہاں پر برابری کا مطلب اس کی جسمانی برابری نہیں بلکہ سماجی، معاشی اور سیاسی حقوق کی برابری ہے۔ عورت کی جسمانی ساخت، مذہب، سماجی روایات، سیاسی نظام، معیشت اور قانون کو عورت کے استحصال کے بجائے اس کی آزادی اور حقوق کی برابری کےلیے استعمال کیا جائے۔ اس مقصد کے حصول کےلیے حکومتی سطح پر متعلقہ قوانین پر عملدرآمد جبکہ عوامی سطح پر اپنے سماجی رویوں کو فرد سے خاندان اور خاندان سے معاشرے تک تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید برآں عورتوں کو اپنے آئینی حقوق سے متعلق جانکاری لازمی ہونی چاہے۔ ان حقوق کی آگاہی کےلیے ایک طرف الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو کردار ادا کرنا ہوگا، جبکہ دوسری طرف تعلیمی اداروں میں اس آگاہی کےلیے ایسے کورسز کی تشکیل کا بندوبست کیا جانا چاہیے۔

Monday, September 30, 2019

میں کس گلی میں کھیلوں؟





تہذیب اپنے زوال کی اتھاہ گہرائی تک پہنچ چکی۔ وہ معصوم کلیاں اور پھول جو گلشن ہستی کا ساماں تھے، آج ہوس پرست درندوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ وہ نازک کونپلیں جو ابھی تنے سے نکلی ہی ہوتی ہیں، کاٹ لی جاتی ہیں۔ لاشے بکھرے پڑے ہیں جس گلی میں جاؤ، جس محلے میں جاؤ، جس شہر کا رخ کرو، ہر طرف یہی وحشت نظر آتی ہے۔ انسان انسان کو ڈھونڈ رہا ہے کہ وہ کہاں گیا۔ کبھی بچپن بھی ہوا کرتا تھا اور لڑکپن بھی، یہ دونوں ادوار حیات نہایت پاکیزہ گردانے جاتے تھے، مگر آج بچپن کا دوسرا نام خوف ہے۔ مائیں جلد سے جلد اپنے نازک پھولوں کو تناور درخت دیکھنا چاہتی ہیں کہ کہیں یہ ان بھیڑیوں کے ہتھے نہ چڑھ جائیں جو ہر گلی کے موڑ پر اپنی خونیں نظریں گاڑے پاگل ہوئے جاتے ہیں۔

ہ جوظالم ہیں یہ بھی تو کسی نے جنم دیئے ہیں اور جنم دے کر شائد کوڑے دان میں پھینک دیئے۔ بھوک اور ہوس کے کوڑے دان میں۔ یہ اپنے ہی گھروں میں شائد ایسا تماشا دیکھتے رہے ہیں۔ شائد ان کے سامنے ان کی مان بہن کی عزت بے معنی رہی ہے۔ شائد ان کے ہاں عزت کا تصور ہی نہ رہا ہو، تبھی تو وہ عمر کی تفریق بھی کرنے سے قاصر ہیں۔ ایسے تقسیم ہوئے ہیں کہ بس گناہ ہی جمع کیے جارہے ہیں۔ اور آخر لاکھ چھپنے کے بعد تختہ دار پر مصلوب ہوہی جاتے ہیں۔ یہ درندے ہمارے اس شکستہ معاشرے کے جنگل کے بادشاہ ہیں۔ یہ ہمیں ہمارا ہی آئینہ دکھاتے ہیں۔ ہم انہیں کوستے ہیں، انہیں گالیاں دیتے ہیں، انہیں معاشرے کا ناسور سمجھتے ہیں، مگر یہ ہماری ہی پیداوار ہیں۔ ہم نے ہی انہیں پالا ہے۔ ہم نے ہی انہیں اس نہج پر لاکھڑا کیا ہے کہ اب یہ سانپ اپنے ہی بچوں کو کھائے جارہے ہیں۔

انہیں کس نے پناہ دی؟ ضرور کسی صاحب ثروت اور صاحب جاہ و حشمت نے اپنی پیٹھ پیچھے انہیں چھپایا۔ انہیں شہ ملی اور یہ اور آگے بڑھے۔ اس ناہنجار مقتدر کو انہوں نے اپنا آلہ کار بنایا، اسے کچھ پرچیاں دیں یا اس کےلیے کوئی دوسرا جرم کیا، اس کا جرم اپنے سر لیا اور اس نے انہیں سر پر بٹھا لیا کہ یہ پاگل کتے ماؤں کے آنگن اجاڑتے پھریں۔ کہیں کوتوال نے اپنے بھتے کےلیے انہیں نظر انداز کردیا اور کہیں عزت کے مارے والدین خاموشی اختیار کرگئے۔

اب معصوم بچے گھر سے نکلتے ہوئے ڈرنے لگے ہیں۔ انہیں اب یہ اود بلائیں نظر آنے لگی ہیں۔ انہیں ماں باپ نے ان سے خوفزدہ کردیا ہے۔ ان کے کھیل کود کے دن اب خوف کے سائے میں بند کمروں میں کٹتے ہیں۔ اب وہ باہر نکلنے سے پہلے پوچھتے ہیں کہ امی کس گلی میں جا کر کھیلنا ہے؟ وہ محلہ جو ان کا بہت بڑا کھیل کا میدان تھا، وہ گاؤں جو ان کی جاگیر تھا، جہاں چاہتے تھے وہیں جاتے تھے، سب ان کے ماں باپ تھے، بہن بھائی تھے۔ اب وہ سارے انہیں اپنے دشمن اور شیطان نظر آتے ہیں۔ تبھی تو گھر سے نکلتے وقت اپنے والدین کو دو تین مرتبہ گلے لگاتے ہیں کہ پتہ نہیں کس گلی کے کس نکڑ پر بھیڑیا کھڑا ہو اور بعد میں گلے ملنے کا موقع ہی نہ ملے۔


تحرير:

اکرم ثاقب



Friday, September 20, 2019

چوڑا بستی ، چھوڑ گيا.

چھاتی ٹھوک کے کہو کہ ھاں ميں چوڑا ھوں!



ھمارے ھاں ايک بستی ھے جس ميں اکثريت مسيحی خاکروب پيشہ و رھيں۔ چاليس سال قبل جب اندرون شہر سے نچلی ذات کے مسيحوں کو شہر سے باھر نکالا تو انہوں نے ريت کے ٹيلوں پر بسيرا کر ليا۔ يہ لوگ دن رات محنت مزدوری کرتے رھے ، گھر بنتے گرتے رھے اور آج يہ بستی شہر کے وسط ميں ھے۔ 

اس بستی کو آباد کرنے والے ذيادہ تر معمار دنيا چھوڑ چکے ھيں، اس بستی ميں ’’سينٹ ميری ‘‘ مشنری سکول ھے جس نے ان خاکروب لوگوں کے بچوں کو معاشرتی تعصبات ، اونچ نيچ، ذات پات سے بچايا۔ بچے پڑھ لکھ کر اب اعلی عہدوں تک پہنچ گے۔ اسی بستی کے ايک چوڑے نے نام بدل کر دور دراز کے علاقے ميں بھيک مانگی شروع کر دی۔ کسی نہ کسی طرح خبر بستی کت پہنچ گئی، لوگوں نے پنچائيت بلوائی اور بھيک مانگنے کی پاداش اس خاکروب (چوڑے) کا حقہ پانی بند کر ديا اور شرط رکھی کہ جب تک وہ بھيک مانگنا ترک نہيں کر دے گا کوئی شخص اُس کو اپنی شادی ميں نہيں بلواے گا۔ سوشل بائيکاٹ سے تنگ آکر وہ بستی چھوڑ گيا کيونکہ گداگری چھوڑنا شائد اُس کو مشکل لگا۔ وہ آسان زندگی کا عادی ھوگيا تھا۔
 
طاھر خليل سندھو صاحب (ايم پی اے ـ پنجاب اسمبلی) دل چھوٹا کيوں کرتے ھيں آپکو خاکروب (چوڑا) کہا گيا ھے، بھکاری تو نہيں!
 
ہر روز باعزت اعلی عہدوں پر فائز لوگ مذہبی تضحيک اور ذات پات کا نشانہ بنتے ھيں آپ چھاتی ٹھوک کرکہيں کہ، ''اگر رزق حلال (خاکروب) کی وجہ سے لوگوں کو چوڑا کہا جاتا ھے تو ھاں ميں چوڑا ھوں۔ ''


تحرير:
لعزر اللئہ رکھا ٴ ـ ايڈوکيٹ
 

پاکستان ميں مسيحی اور ديگرمذھبی اقليتوں کی صورتحال، ايک جائزھ ۱۹۴۷ تا ۲۰۱۸



پاکستان ميں مسيحی اور ديگر مزھبی اقليتوں کی موجودہ صورتحال نيز عوامل و وجوھات.

۱۱اگست ۱۹۴۷ کو بانی پاکستان قايداعظم محمد علی جناح نے آئين ساز اسمبلی سے خطاب ميں فرمايا,

’’آپ سب آزاد ھيں اپنے مندروں ميں جانے کے ليے، آپ سب آزاد ھيں اپنی مسجدوں ميں جانے کے ليے اور کسی بھی عبادت گاھ ميں جانے کے ليے۔ اس مملکت پاکستان ميں آپکا تعلق کسی بھی  مزھب، ذات يا عقيدے سے ھو مملکت کا اس سے کوئیسروکار نھيں۔‘‘

مزيد فرمايا,

’’ھم ايسے دنوں ميں شروع کر رھے ھيں جھاں کوئی امتيازی سلوک نھيں ھے، ايک کميونٹي اور دوسرے کے درميان کوئی فرق نھيں، کسی ذات يا مزھب کے درميان کوئی تعصب نھيں ھے۔ ھم اس بنيادی اصول کے ساۃ شروع کر رھے ھيں کہ ھم سب شھری ھيں، ايک رياست کے برابر کے شھری۔‘‘

قايداعظم کا يہ خطاب اْنکی پاکستان کے ليے بنيادی نظريے ، ترجيھات کو ظاھر کرتا ھے اور اْس وقت کی مسيحی سياسی قيادت نے قا يداعظم کے ان الفاظ پہ يقين کيا اورقيام پاکستان کی غيرمشروط حمايت کرتے ھوے اپنے فيصلہ کن ووٹ کاسٹ کيے۔  ليکن بد قسمتی سے قايداعظم کی وفات کے بعد پاکستان ميں بسنے والے  مسيحی اورديگر مذاھب کے افراد کی صورتحال ميں جوتبديلياں رونما ھوئی  اُنکی تفصيل کا مختصر جائزھ اُوپرشيعرکی گئی ويڈيوپيغام کی صورت ميں موجود ھے۔ 



مزيد جاننے کے لے ويڈيوديکھيں!