Showing posts with label حالات حاضرہ. Show all posts
Showing posts with label حالات حاضرہ. Show all posts

Thursday, February 6, 2020

انڈیا میں محمد علی جناح کا اتنا ذکر کیوں ہو رہا ہے؟


تحرير: سہيل حليم


انڈیا میں آجکل محمد علی جناح کا جتنا ذکر ہو رہا ہے شاید پاکستان میں بھی نہیں ہوتا ہوگا۔

کوئی کہہ رہا ہے کہ بانی پاکستان یہ دیکھ کر بہت خوش ہوں گے کہ ہندوستان جس راہ پر چل رہا ہے جلدی ہی اس کی ملاقات پاکستان سے ہو جائے گی اور تقسیم کے وقت دونوں بھائی ایک دوسرے سے ناراض ہوکر بھلے ہی الگ الگ راستوں پر نکل پڑے ہوں لیکن اب لگتا ہے کہ انجام کار ستر سال کے لمبے اور دشوار گزار سفر کے بعد ایک ہی منزل پر پہنچ جائیں گے۔

اور تب شاید پاکستان مڑ کر انڈیا سے کہے گا کہ بھائی اگر یہیں آنا تھا تو الگ ہی کیوں ہوئے، ساتھ ہی چل پڑتے ؟ اور اگر "جی پی ایس" استعمال کیا ہوتا تو یہاں وہاں بھٹکنے میں اتنا وقت برباد نہ ہوتا، سیدھے منزل پر پہنچتے!

کوئی کہہ رہا ہے کہ حکمراں بی جے پی شہریت کا جو نیا قانون وضع کر رہی ہے اس سے جناح کا دو قومی نظریہ درست ثابت ہوجائے گا، یہ گاندھی کے مقابلے میں جناح کے نظریے کی جیت ہوگی۔ جناح اور پاکستان کا ذکر ہے کہ ختم نہیں ہوتا۔

وزیراعظم مودی اکثر یہ بات کہتے ہیں کہ انہوں نے پھر لوگوں کو یاد دلایا ہے کہ کانگریس پاکستان کی زبان بول رہی ہے اور جواب میں کانگریس کے لیڈر ششی تھرور کا کہنا ہے کہ مسٹر مودی کی حکومت نہ صرف پاکستان کی طرح بات کرتی ہے بلکہ اسی کے نقش قدم پر چلتی بھی ہے اور سوچتی بھی ہے!

بھائی، خون تو ایک ہی ہے! چہرہ مہرہ، وہ بول چال کا انداز، وہ طور طریقے؟ آپ کتنی بھی کوشش کرلیں کچھ چیزیں نہیں بدلا کرتیں۔

بہرحال، شہریت کے قانون میں معمولی سی ترمیم کی جارہی ہے، کوئی ایسی بڑی بات نہیں ہے کہ جس پر اتنا ہنگامہ کیا جائے۔ بات بس اتنی سی ہے کہ اگر آپ ہندو، سکھ، مسیحی، جین، بودھ یا پارسی ہیں اور آپ نے پاکستان، بنگلہ دیش یا افغانستان سے بھاگ کر ہندوستان میں پناہ لی ہے تو آپ کو ہندوستان کی شہریت دے دی جائے گی کیونکہ حکومت یہ مانتی ہے کہ آپ یہاں تشریف لائے ہیں تو آپ کو آپ کے مذہب کی وجہ سے ستایا گیا ہوگا، ورنہ کون اپنا گھر بار چھوڑ کر یوں در بدر ٹھوکریں کھاتا ہے؟

اور اگر آپ روزگار کی تلاش میں یہاں آتے تھے تو خاموش ہی رہیے گا کیونکہ نئے مجوزہ قانون میں یہ خانہ شامل نھیں ہے، ایسا نہ ہو کہ زبردستی ایمانداری دکھانے کے چکر میں الٹا پھنس جائیں۔ بہت سے لوگ یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ جو لوگ چالیس پچاس سال پہلے بنلگہ دیش (یا اس سے پہلے مشرقی پاکستان) کی سرحد پار کرکے شمال مشرقی ریاستوں میں آکر بس گئے تھے، وہ یہ کیسے ثات کریں گے کہ انہیں ان کے مذہب کی وجہ سے نشانہ بنایا جارہا تھا؟ اس لیے بس جو حکومت کہہ رہی ہے کرتے رہیے۔

اگر آپ مسلمان ہیں اور غلطی سے یہاں پہنچ گئے تھے تو آپ کو عزت کے ساتھ گھر واپس بھیجنے کا انتظام کیا جائے گا۔ اگر پڑوسی ملک واپس لینے کے لیے تیار نہیں ہوتے تو پھر بات ذرا پیچیدہ ہوجاتی ہے لیکن ان پیچیدگیوں کے بارے میں آپ کو گھر چھوڑنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔

اور اگر آپ کے ذہن میں یہ بات ہو کہ ہم تو پچاس سال سے یہاں رہتے ہیں، بچے بھی یہیں پیدا ہوئے ہیں اور سوچا تھا کہ مریں گے بھی یہیں، تو یا تو پچاس برسوں میں آپ کے حالات زندگی بدل چکے ہوں گے اور آپ کو واپس جانے میں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے اور اگر حالات نہیں بدلے ہیں تو آپ کو ویسے بھی کہیں اور جاکر ٹرائی کرنے کے بارے میں سوچنا ہی چاہیے۔

جہاں تک شہریوں کے قومی رجسٹر کا سوال ہے، اس میں ان تمام لوگوں کو شامل کیا جائے گا جو اپنی شہریت ثابت کر پائیں گے، جو نہیں کر پائیں گے لیکن مسلمان نہیں ہوں گے انہیں نئے قانون کے تحت شہریت دے دی جائے۔ جو ثابت نہیں کر پائیں گے لیکن مسلمان ہوں گے۔۔۔ اف! یہ اکوئیشن بہت الجھی ہوئی ہے، وہ بھی کسی نہ کسی فہرست میں شامل ہوں گے لیکن فی الحال کہنا مشکل ہے کہ کونسی۔

پارلیمان میں بل پیش کرتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ اگر کانگریس نے مذہب کی بنیاد پر ملک کو تقسیم نہ کیا ہوتا تو اس قانون کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔

لیکن اگر ملک تقسیم نہ ہوا ہوتا تو اس کی آبادی بھی تقسیم نہ ہوتی اور اس کے کچھ فائدے بھی ہوتے اور نقصان بھی۔

سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا کہ انڈیا اور پاکستان ایک ہی ملک ہوتے اس لیے ان میں آپس میں جنگیں نہ ہوتیں، کشمیر پر کوئی تنازع نہ ہوتا اور اسے ’مرکز کے زیر انتظام علاقہ‘ بنانے کی ضرورت نہ پڑتی، آئی ایس آئی اور را ایک ہی ہوتے، یہ فیصلہ نہ کرنا پڑتا کہ عمران خان زیادہ بڑے آل راؤنڈر تھے یا کپل دیو، دونوں ایک ہی ٹیم میں کھیل رہے ہوتے اور ٹی وی چینلوں کے پاس زیادہ کام نہ ہوتا۔

(اور عمران خان کبھی پاکستان کے وزیر اعظم نہ بن پاتے، لیکن کچھ لوگ اس بات کو فائدہ میں ڈالیں گے اور کچھ نقصان میں، اس لیے اسے بیچ میں ڈال دیتے ہیں)

نقصان یہ ہوتا کہ بی جے پی کے رہمنا بات بات پر کچھ لوگوں کو پاکستان جانے کا مشورہ نہ دے پاتے، لال کرشن اڈوانی نے کراچی جاکر جناح کو سیکولر نہ بتایا ہوتا اور اس کے بعد گھر نہ بٹھائے گئے ہوتے اور شاید وہ ’سیاسی سپیس‘ خالی ہی نہ ہوتی جو نریندر مودی نے پر کی ہے، اور اگر نریندر مودی وزیر اعظم نہ بنتے تو امت شاہ وزیر داخلہ کیسے بنتے؟ تو شاید پارلیمان میں یہ بل بھی پیش نہ ہوتا۔

تو امت شاہ صاحب، اس بحث کا کوی فائدہ نہیں، یہ مرغی اور انڈے کی بحث ہے، کبھی ختم نہیں ہوگی۔

سوال یہ ہے کہ جو لوگ کسی بھی مشکل میں، چاہے پیسہ کمانے یا پھر جان بچا کر، یا پھر آزادی کے ساتھ اپنے مذہب پر عمل کرنے کے لیے ہندوستان آئے تھے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟

چھوڑ دیا جائے یا بھگا دیا جائے؟

ہماری مانیں تو چھوڑ دیجیے، بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان سے چاہے آپ کی کتنی بھی دوستی یا دشمنی ہو، وہ کسی بھی مذہب کا ایک بھی فرد لینے کے لیے تیار نہیں ہوں گے اور جو لوگ انڈیا میں اپنی زندگی گزارنے کے بعد یہاں کی شہریت ثابت نہیں کر پائیں گے وہ کسی دوسرے ملک کی شہریت پر کیا دعوی کریں گے؟ تو پھر آپ انہیں حراستی مراکز میں رکھیں گے اور آخرکار کبھی نہ کبھی چھوڑ ہی دیں اور اگر چھوڑنا ہی ہے تو پکڑنے کا کیا فائدہ؟

غیر قانونی تارکین وطن کے طور پر ان لوگوں نے اتنا وقت اگر امریکہ میں بھی گزارا ہوتا تو کب کے شہری بن گئے ہوتے!

Monday, October 14, 2019

ساٸبر کراٸم, احتیاط کجیۓ




تحرير:لعذر اللہ رکھا ایڈووکيٹ

آپکا ایک غلط کلک آپکو موت کے منہ میں لے جا سکتا ھے۔


آجکل سوشل میڈیا کا جادو سر چڑھ کر بول رھا ھے، خاصکر نوجوان نسل کو سوشل میڈیا کی لت نشے کی حد تک لگ چکی ھے، شہروں سے لیکر دورہ افتادہ گاوُں تک فیس بک، واٹس اپ مسینجر کا دن رات بے دردی سے استعمال کیا جارھا ھے,اور یہ انسان کا بنیادی حق بھی ھے،جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا بری بات نہیں اس کا غلط استعمال بری بات ھے، آج کل زیادہ تر توھین مذھب کے کسیز کی بڑی وجہ فیس بک،واٹس اپ ،ای میل اور مسینجر کا غلط اور احمکانہ استعمال ھے اور یہ کیسز توھین آمیز پوسٹس کی وجہ سے رجسڑڈ ھورھے ھیں، سمارٹ فونز پر لاپرواھی اور غفلت کی بنا پر حالیہ دور میں متعدد ایف آٸی آر ھوٸی ھیں، آپ کے سمارٹ فون سےلاعلمی یا بےاحتیاطی سے اگر کوٸی توھین آمیز مواد لاٸک یا شیٸر ھوا تو آپ اپنے ساتھ اپنے خاندان اور پوری برادری کو جان لیوا مصیبت میں ڈال لیں گے ،ھر شخص کو پتہ ھونا چاھیے کہ تمام مقدس ھستیوں کی شان میں توھین آمیز کنٹینٹ لاٸک کرنا، پوسٹ کرنا شٸیر کرنا سنگین جرم ھے، اور پریوینشن آف الیکٹرونک کراٸم ایکٹ2016 کے تحت اس کی سزا،سزاۓ موت تک ھوسکتی ھے.

 ایف آٸی اے اس کا تفتیشی ادارہ ھے، اور اگر کسی بھی طریقے سے آپ کا سمارٹ فون اس جرم کا ارتکاب میں پایا گیا تو سمجھیں جیل کی کال کوٹھری آپ کی منتظر ھے اور لمبے عرصہ تک آپ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ھیں،

اس ضمن میں چند احتیاطی تدابیر:-

فیس بک واٹس اپ میسنجر پر کسی مذھبی گروپ میں ایڈ نہ ھوں، اگر ھیں تو فوری نکل جاٸیں۔کسی بھی قسم کے فیس بک یا واٹس اپ پر مذھبی گروپ کے ایڈمن نہ بنیں،کسی بھی مذھبی بحث میں حصہ نہ لیں نہ لاٸک کریں اور نہ شٸیر کریں۔کسی بھی توھین آمیز مواد کو فوری اپنے اکاونٹ ڈی پی اور گیلری سے ڈیلیٹ کردیں، اور سینڈر کو مستقل بلاک کر دیں، اپنا فیس بک اور واٹس اپ اکاونٹ اپنی گیلری بھی توھین مواد سے صاف رکھیں۔کسی فرقہ وارانہ تقریر لیکچر اور وڈیو کو پسند نہ کریں۔اپ لوڈ اور نہ ھی ڈاون لوڈ کریں۔کوٸی ھتک آمیز کومنٹ نہ کریں اور نہ کسی کے بھی مذھبی جذبات کو ٹھیس پہنچائیں۔اپنی فرینڈ لسٹ مختصر اور سلجھے لوگوں تک محدود رکھیں، غیر ضروری فرینڈز کو ڈیلیٹ کرنا شروع کریں۔

مذھبی سکالر بننے کی کوشش نہ کریں، اور نہ ھی مذھبی اشتعال دلانے والی پوسٹ کریں جنونی اور انتہا پسند لوگوں کو فالو نہ کریں چاھیۓ مسیحی عالم ھی کیوں نہ ھوں، تمام مذاھب کی مقدس ھستیوں کا احترام آپ کی قانونی، اخلاقی اور مذھبی ذمہ داری ھے. ذرا سے لاپرواھی اور بے احتیاطی سے آپکا سمارٹ فون آپ کے لٸے پھانسی کا پھندہ بن سکتا ھے۔پلیز شٸیر کجیۓ۔


Saturday, September 28, 2019

عمران خان کی امریکہ میں متنازع شخصیت سے ملاقات اور سوشل میڈیا پر تنقید۔




نیویارک میں کشمیریوں کے ایک وفد سے ملاقات کے بعد پاکستانی وزیراعظم عمران خان اور نیویارک میں ان کی ٹیم سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہیں۔


اس کشمیری وفد میں شامل امریکا میں سزایافتہ شخص کی شمولیت اس تنقید کی وجہ بنی۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے گئے ہوئے عمران خان جہاں اجلاس میں زیادہ سے زیادہ حمایت سمیٹنے کے لیے عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں وہیں مختلف شعبہ ہائے زندگی کے وفود سے بھی مل رہے ہیں۔

ظاہر ہے کہ ان کی ان ملاقاتوں کا مقصد مختلف علاقائی اور عالمی امور پر پاکستانی موقف کے لیے تائید و حمایت حاصل کرنا ہے۔

اس وقت ان کے ایجنڈے پر کشمیر کا مسئلہ سر فہرست ہے جو انڈیا کی جانب سے اس کے زیرانتظام ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد پھر سے بین الاقوامی منظر نامے پر آگیا ہے۔

عمران خان نے 23 ستمبر کی ملاقات میں کشمیری وفد کو یقین دلایا کہ 'میں آپ کا پوری دنیا میں سفیر بنوں گا۔'

بظاہر تو یہ ایک بے ضرر سا سفارتی بیان ہے۔ تاہم وفد میں ستّر برس کے ڈاکٹر غلام نبی فائی کی شمولیت نے اسے متنازع بنا دیا ہے۔

آئی ایس آئی کنیکشن

کشمیری نژاد امریکی شہری ڈاکٹر غلام نبی فائی پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی سے غیر قانونی طور پر رقوم وصول کرنے کے جرم میں سزا یافتہ ہیں۔

سنہ 2012 میں ایک امریکی عدالت کے سامنے اقبال جرم کرنے کے بعد انھیں دو سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو کسی سے ملاقات سے پہلے ان کے پس منظر کے بارے میں پوچھ گچھ کرنی چائیے تھی کیونکہ ایک حساس معاملے میں کسی سزایافتہ شخص سے ملاقات کا تاثر بین الاقومی سطح پر مثبت نھیں ہو سکتا۔

ریاست جموں و کشمیر کے ضلع بڈگام میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر فائی کو جس وقت جولائی 2011 میں گرفتار کیا گیا تو وہ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں قائم کشمیری امریکن کونسل نامی ادارے کے سربراہ تھے۔

جرم کیا تھا؟

ان پر الزام تھا کہ انھوں نے آئی ایس آئی سے تقریباً 40 لاکھ ڈالر وصول کیے تھے اور اس سلسلے میں امریکی حکام سے غلط بیانی کی تھی۔

استغاثہ کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی ڈاکٹر فائی کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے بارے میں امریکی پالیسی پر اثرانداز ہونا چاہتی تھی اور یہ رقم اسی مقصد کے لیے ادا کی گئی تھی۔

کشمیری امریکن کونسل ایک غیر نفع بخش ادارے کے طور پر کام کرتی تھی اور اس کے اخراجات امریکی شہریوں کے فنڈ سے پورے کیے جاتے تھے۔

امریکی حکام کے مطابق اس تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی حیثیت سے ڈاکٹر فائی نے آئی ایس آئی سے مختلف اوقات میں رقوم وصول کی تھیں تاہم انھوں نے امریکی قانون، فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ، کے مطابق ایک غیر ملکی حکومت کے ایجنٹ کے طور پر اپنا انداراج نھیں کرایا تھا۔

امریکی قانون کیا کہتا ہے؟

امریکہ میں غیر ملکی افراد اور حکومتیں امریکی انتخابی مہم کے لیے چندہ نھیں دے سکتے اور جو بھی کسی غیر ملکی حکومت کے لیے کام کرتا ہے اس کے لیے امریکی محکمۂ انصاف میں اپنا اندراج کروانا ضروری ہوتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ڈاکٹر فائی نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے اعلٰی امریکی حکام سے ملاقاتیں اور کانفرنسوں کا انعقاد کیا تھا تاکہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں ان کی رائے پر اثرانداز ہوا جا سکے۔

مارچ 2012 میں سزا سنائے جانے کے بعد امریکی ریاست ورجینیا کے شہر الیگزینڈریا میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہا تھا کہ اُنھوں نے کشمیر کی آزادی کی خاطر قربانی دی ہے۔

پاکستانی حکام نے اس وقت ڈاکٹر غلام نبی فائی کی سرگرمیوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

’اگر جنگ ہو گی تو ایٹمی ہو گی یہ دھمکی نہیں وارننگ ہے‘





پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا کہ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ ایک اعشاریہ دو ارب کی آبادی والی مارکیٹ کو خوش کرنے کی بجائے انڈیا کو کشمیر کی پالیسی بدلنے پر مجبور کرے۔


عمران خان نے تقریباً ایک گھنٹے کی اپنی تقریر میں کہا کہ کشمیر کی صورتحال دو ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ شروع کروا سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر یہ جنگ ہوئی تو پاکستان آخری حد تک جائے گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا ’یہ دھمکی نہیں بلکہ وارننگ ہے۔`

عمران خان سے کچھ ہی دیر پہلے ہی انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا تھا۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ انڈیا نے دنیا کو 'یُدھ'(جنگ) نہیں بلکہ بدھ دیا ہے۔

عمران خان نے اپنی سترہ منٹ کی تقریر میں کہا کہ وہ اس دیس کے رہنے والے ہیں جس نے پوری دنیا کو امن کا پیغام دیا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم نے مزید کہا ’کشمیر'(انڈیا کے زیر انتظام کشمیر) میں اسی لاکھ افراد کرفیو میں ہیں اور جب یہ کرفیو اٹھے گا تو وہاں خون کی ندیاں بہیں گی۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا کسی نے سوچا ہے جب خون کی ندیاں بہتی ہیں تو کیا ہوتا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ 13 ہزار نوجوانوں کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر لے جایا گیا ہے اور کسی نے کبھی ان نوجوانوں کے نقطۂ نظر سے سوچا ہے کہ وہ اس وقت کس کیفیت سے گزر رہے ہوں گے جب انھیں مختلف طرح کی خبریں مل رہی ہوں گی۔

انھوں نے متنبہ کیا کہ ان میں سے کچھ انتہا پسندی کی طرف جائیں گے اور اس کے نتیجے میں ایک اور ’پلوامہ‘ ہو گا، اس کا الزام پاکستان پر لگے گا، ’اسلامی دہشت گردی‘ کی اصطلاح استعمال ہو گی جسے سن کر دنیا چپ ہو جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی اپنی رپورٹوں کے مطابق کے کشمیر میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں اور ہزاروں ریپ ہو چکے ہیں۔

پاکستان کے وزیر اعظم نے کہا کہ کیا کسی نے سوچا ہے کہ انڈیا کے 18 کروڑ مسلمان اس وقت کیا سوچ رہے ہیں، دنیا بھر کے مسلمان کیا سوچ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ لوگ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ کیا وہ کسی ’کم تر‘ خدا کے بچے ہیں، لوگوں کا دل دکھے گا اور پھر کوئی بندوق اٹھا لے گا۔

پاکستان کے وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ نے کشمیریوں سے وعدہ کیا تھا اور اب ان وعدوں کو پورا کرنے کا وقت ہے۔

عمران خان نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہا کہ پہلا اور فوری ایکشن تو یہی ہونا چاہیے کہ انڈیا کشمیر میں کرفیو ختم کرے۔

عمران خان نے تقریر میں مختلف موضوعات پر بات کرنے کے بعد آخر میں کشمیر کا ذکر کیا اور سب سے زیادہ وقت اسی پر بات کی۔

نریندر مودی اور آر ایس ایس کا نظریہ
پاکستانی وزیرِ اعظم نے کہا کہ انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 80 لاکھ کشمیریوں کو کرفیو میں رہنے پر مجبور کیا ہے۔ ’اگر مغرب میں 80 لاکھ جانور قید کر دیے جائیں تو جانوروں کے حقوق کی تنظیمیں متحرک ہو جائیں گی۔‘

انھوں نے سوال اٹھایا کہ کوئی ایسا کیسے کر سکتا ہے، اس کے لیے آر ایس ایس کا نظریہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا نریندر مودی اس تنظیم کے تاحیات رکن ہیں اور یہ تنظیم نسلی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور انڈیا میں نسل کشی کرنا چاہتی ہے اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف ہے۔

’آر ایس ایس کا نظریہ نفرت کا نظریہ ہے اور اسی کی وجہ سے گاندھی کا قتل ہوا تھا۔ اسی نظریے کی وجہ سے انڈیا کی ریاست گجرات میں دو ہزار لوگوں کا قتل عام ہوا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ جب کوئی بالادستی کے کی سوچ اپناتا ہے تو غرور اور تکبر کا شکار ہو جاتا ہے اور اسی چیز نے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی سے کشمیر والا فیصلہ کروایا۔

’پاکستان کا ایجنڈا امن ہے‘

پاکستان کے وزیر اعظم عمران نے کشمیر پر بات شروع کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ اقتدار میں آئے تھے تو ان کا ایجنڈا امن تھا اور اپنے پڑوسیوں ایران اور افغانستان کے ساتھ تعلقات ٹھیک کرنا شروع کیے اور اسی جذبے سے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف بھی ہاتھ بڑھایا۔

عمران خان نے کہا انڈیا کی طرف سے مثبت جواب نہیں ملا اور انھوں نے ہم پر الزام لگائے اور میں نے جواب میں انھیں بلوچستان میں انڈیا کی کارروائیوں کے بارے میں بتایا۔

انھوں نے کہا انڈیا کو کہا گیا کہ یہ سب بھول کر آگے بڑھتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہوا اور اس کی وجہ ان کے بقول، شاید انتخابات کا ماحول تھا لیکن انتخابات کے دوران اور بعد میں بھی پاکستان مخالف جذبات کا اظہار ہوتا رہا۔

پاکستان کے وزیر اعظم نے ایک سے زیادہ بار اپنی تقریر میں کہا کہ خطرہ یہ ہے کہ کوئی شخص حالات سے متاثر ہو کر انتہا پسندی کی طرف جا کر کوئی کارروائی کر دے گا جس کا الزام پاکستان پر لگے گا۔

انھوں نے کہا کہ جب ایٹمی طاقتوں کے آمنے سامنے آنے کا امکان ہو تو اقوام متحدہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مداخلت کرے۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان تو خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور 70 ہزار جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔ انھوں نے کہا ان کی حکومت نے تمام ایسے گروپس کو ختم کیا۔


Friday, September 27, 2019

بحریہ یونیورسٹی کی طالبہ حلیمہ امین کی ہلاکت پر ساتھی طلبہ کا احتجاج۔




اسلام آباد میں واقع بحریہ یونیورسٹی میں ایک 23 سالہ طالبہ حلیمہ امین کی ہلاکت کے بعد طلبہ نے یونیورسٹی کی انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا۔

بحریہ یونیورسٹی کے باہر احتجاج کرنے والے طلبہ نے کہا ہے کہ وہ یونیورسٹی کے ریکٹر کا استعٰفی لیے بغیر احتجاج نہیں روکیں گے۔

احتجاج کرنے والے طلبہ نے بحریہ یونیورسٹی کے ریکٹر (پرنسپل) سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ وفاقی وزیر شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد یونیورسٹی کی انتظامیہ کا رویہ پریشان کن ہے اور اس 'مجرمانہ غفلت' کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے طالبہ کی ہلاکت سے متعلق تمام دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں تحقیقات کی جا رہی ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق بحریہ یونیورسٹی میں سیکنڈ ایئر کی طالبہ حلیمہ امین جمعرات کی شام مبینہ طور پر کیمپس کی ایک زیرِتعمیر عمارت کی چوتھی منزل سے گر کر ہلاک ہوئیں۔

اس واقعے کا مقدمہ تاحال درج نہیں کیا گیا ہے۔ جبکہ جمعے کو نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد حلیمہ امین کو سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔

مرغزار پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انھیں دی جانے والی اطلاعات کے مطابق مذکورہ طالبہ ’زیرِ تعمیر عمارت میں سیلفی بناتے ہوئے گر کر ہلاک ہوئیں‘۔

تاہم حلیمہ کے ساتھی طلبہ و طالبات اس موقف کی تردید کرتے ہیں اور ان کے ایک ہم جماعت علی نے بتایا 'کہا یہ جا رہا ہے کہ حلیمہ سیلفی لے رہی تھیں جس کے نتیجے میں ان کی ہلاکت ہوئی۔ یہ سچ نہیں ہے۔ وہ وہاں سیلفی لینے نہیں، اپنی کلاس شروع ہونے کا انتظار کر رہی تھیں۔'

ان کا دعویٰ ہے کہ 'حلیمہ جس کلاس سے باہر آ رہی تھیں وہاں دروازے اور زمین کے بیچ موجود خلا کے درمیان بہت ہی تنگ راستہ تھا جسے انتظامیہ نے بوریاں بچھا کر ڈھانپ دیا تھا۔ نتیجتاً حلیمہ کا پیر اس پر لگا اور وہ اپنا توازن کھو کر نیچے گِر گئیں۔'

یونیورسٹی کے طلبا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اس واقعے کے بعد بنائی جانے والی ویڈیوز شیئر کی ہیں اور الزام لگایا ہے کہ 'حلیمہ کے ہسپتال جانے کے فوراً بعد اس جگہ پر صفائی شروع کر دی گئی اور اس سے پہلے مذکورہ مقام پر طلبہ و طالبات کو متنبہ کرنے کے لیے کوئی بورڈ یا پیغام موجود نہیں تھا۔'

یونیورسٹی انتظامیہ کیا کہتی ہے؟

بحریہ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر ہی اپنا ایک بیان پوسٹ کیا ہے جس میں طالبہ کی ہلاکت پر غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’حلیمہ ایک قابل طالبہ تھیں اور ان کی خودکشی اور اس کے علاوہ میڈیا پر چلنے والی تمام منفی باتیں بے بنیاد ہیں۔‘

یونیورسٹی انتظامیہ نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اس معاملے کے تمام پہلؤوں کی تحققات کے لیے اعلیٰ سطح کی انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے جسے جلد ہی تمام متعلقہ افراد کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔

انتظامیہ کے مطابق وہ زیرِ تعمیر عمارت یونیورسٹی میں بڑھتے ہوئے طلبہ کی تعداد کو سنبھالنے کے لیے بنائی جارہی ہے۔ اس وقت اس چار منزلہ عمارت کی دو منزلوں پر کلاسیں دی جاتی ہیں جبکہ دیگر دو منزلوں پر اب بھی کام جاری ہے۔

مرغزار پولیس کے اہلکار کے مطابق انھیں یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے یہ کہہ کر جائے وقوع پر جانے سے روک دیا گیا کہ انتظامیہ اس معاملے کی تفتیش کر کے پولیس کو خود رپورٹ بھیجے گی۔

ہسپتال کے عملے نے کیا دیکھا؟

اس واقعے کے بعد حلیمہ امین کو زخمی حالت میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز لے جایا گیا تھا۔

ہسپتال کے عملے کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’یونیورسٹی کے طلبہ ایک لڑکی کو سٹریچر پر لے کر آئے اور ان کے ساتھ ایک ڈاکٹر بھی موجود تھا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حلیمہ کے ہاتھ اور پاؤں پر کئی جگہ فریکچر تھے جبکہ ان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حلیمہ کی موت دوپہر ساڑھے چار بجے ہوئی جس کے بعد جو لوگ ان کو لے کر آئے تھے، وہی ان کی لاش لے کر ہسپتال سے چلے گئے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے اس معاملے پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں یونیورسٹی انتظامیہ، ہسپتال کے عملے اور پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ 

انھوں نے کہا کہ 'اس عمارت میں طلبہ کو تنبیہ کرنے کے لیے بورڈ کیوں نہیں لگائے گئے؟ اس سے زیادہ پریشان کن رویہ یونیورسٹی انتظامیہ کا اس واقعے کے بعد دیکھنے میں آرہا ہے۔'

انھوں نے کہا کہ جب حلیمہ کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا تو پھر وہاں سے بغیر ان کے والدین کو مطلع کیے دوسری جگہ، یعنی سی ایم ایچ، کیوں منتقل کیا گیا۔

شیریں مزاری نے کہا ہے کہ 'یہ انتظامیہ کی ایک مجرمانہ غفلت ہے جس کی صحیح طریقے سے تفتیش ہونی چاہیے۔'

انھوں نے اس بارے میں ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وزارت برائے تعلیم کو پابند کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کریں۔

Friday, September 20, 2019

منارٹيز ڈے پاکستان

دل بہلانے کو، خيال اچھا ھے !


پاکستان ميں منارٹيز ڈے کی شروعات بانی پاکستان قائداعطم محمد علی جناح کے ۱۱ اگست ۱۹۴۷ کے خطاب سے ھوئی۔ منارٹيز ڈے کے حق اور مخالفت ميں مختلف مکتبہ فکر کی مختلف آرا و دلائل ھيں، قيام پاکستان سےقبل دو قومی نظريے کی تحريک اور مطالبہ زور پکڑ چکا تھا کہ برصغيرميں اب مسلمان اور ھندووں کا بوجہ مختلف مذھبی عقائد، رھن سھن اور رسم و رواج اکھٹے رھنا ممکن نہيں تو صورت حال کو مدنطر رکھتے ھوئے انگريز سامراج اس خطے کو دو حصوں،’’پاکستان اور بھارت‘‘ کی صورت ميں تقسيم کر گيا۔ جسکے نتيجے ميں انسانی تاريخ کی سب سے بڑی ھجرت ديکھنے ميں آئی، کيا کيا مظالم ھوئے ، کيا قيمت چکانی پڑی يہ الگ کہانی ھے۔ 

خير پاکستان بننے سے سے دو روز قبل بانی پاکستان نے اپنی شہرہ آفاق تقرير ميں پاکستان کی اساس و خدوخال بيان کرتے ھوئے فرمايا کہ مملکت پاکستان ميں معاشرتی اور سياسی طور پر ’’ مسلمان مسلمان نہيں ھونگے، ھندو ھندو نہيں ھونگے، مسيحی مسيحی  نہيں ھونگے‘‘ رياست مذھب اور عقيدے کی بنياد پر شہريوں سے کسی قسم کا امتيازی سلوکروا نہيں رکھے گی، مذھب کا رياستی امور سے کوئی سروکار نہيں ھوگا، يعنی کہ منزل مقصود تک پہنچ گئے، پاکستان بن گيا اب دو قومی نطريہ بھی دفن کر ديں۔

 ليکن بد قسمتی سے آج بھی ھم مذھب اور مسلک کے چکر سے باھر نہيں نکل سکے، ھم بحثيت پاکستانی ايک قوم نہيں بن پائے ‘ اکثيريت و اقليت کے بھنور ميں ايسے پھنسے کہ ھماری شناخت کہيں گم ھو کر رہ گئی ھے۔ اور اگر دو قومی نظريے کو ذندہ رکھنا اتنا ضروری ھےتو ايک بار بارڈر کھول کر لوگوں کو پرامن ھجرت کا موقع ديں، پھر ديکھيں آپکے ’’ دو قومی نطريے‘‘ کا کيا حشرھوتا ھے۔ 

سب محب وطن پاکستانيوں کو جشن آذادی مبارک !


تحرير:
لعزراللئہ رکھا

پاکستان ميں مسيحی اور ديگرمذھبی اقليتوں کی صورتحال، ايک جائزھ ۱۹۴۷ تا ۲۰۱۸



پاکستان ميں مسيحی اور ديگر مزھبی اقليتوں کی موجودہ صورتحال نيز عوامل و وجوھات.

۱۱اگست ۱۹۴۷ کو بانی پاکستان قايداعظم محمد علی جناح نے آئين ساز اسمبلی سے خطاب ميں فرمايا,

’’آپ سب آزاد ھيں اپنے مندروں ميں جانے کے ليے، آپ سب آزاد ھيں اپنی مسجدوں ميں جانے کے ليے اور کسی بھی عبادت گاھ ميں جانے کے ليے۔ اس مملکت پاکستان ميں آپکا تعلق کسی بھی  مزھب، ذات يا عقيدے سے ھو مملکت کا اس سے کوئیسروکار نھيں۔‘‘

مزيد فرمايا,

’’ھم ايسے دنوں ميں شروع کر رھے ھيں جھاں کوئی امتيازی سلوک نھيں ھے، ايک کميونٹي اور دوسرے کے درميان کوئی فرق نھيں، کسی ذات يا مزھب کے درميان کوئی تعصب نھيں ھے۔ ھم اس بنيادی اصول کے ساۃ شروع کر رھے ھيں کہ ھم سب شھری ھيں، ايک رياست کے برابر کے شھری۔‘‘

قايداعظم کا يہ خطاب اْنکی پاکستان کے ليے بنيادی نظريے ، ترجيھات کو ظاھر کرتا ھے اور اْس وقت کی مسيحی سياسی قيادت نے قا يداعظم کے ان الفاظ پہ يقين کيا اورقيام پاکستان کی غيرمشروط حمايت کرتے ھوے اپنے فيصلہ کن ووٹ کاسٹ کيے۔  ليکن بد قسمتی سے قايداعظم کی وفات کے بعد پاکستان ميں بسنے والے  مسيحی اورديگر مذاھب کے افراد کی صورتحال ميں جوتبديلياں رونما ھوئی  اُنکی تفصيل کا مختصر جائزھ اُوپرشيعرکی گئی ويڈيوپيغام کی صورت ميں موجود ھے۔ 



مزيد جاننے کے لے ويڈيوديکھيں!