Showing posts with label کليساٗ. Show all posts
Showing posts with label کليساٗ. Show all posts

Sunday, November 10, 2019

"شفاٸیہ دُعا اچھی بات ھے"علاج بھی کرواٸیے“

 


تحرير: لعذراللہ رکھا ایڈووکيٹ 


آجکل خدا کے تقریباً ھر خادم کے پاس شفا کی نعمت ھے اور ھر دعاٸیہ اجتماح میں بیماروں لاچاروں لنگڑے لولے کینسر دل کے مریض ناکارہ گردوں ھیپا ٹاٸٹیس اے بی سی بلڈ پریشر شوگر بھانجھ پن غرضیکہ ھمہ قسم کی بیماریوں کے لیے خصوصی شفاٸیہ عبادت ھوتی ھے اور ان موضی امراض سے شفایاب ھونے والے لوگوں کی ٹی وی پر گواہیاں بھی دلاٸی جاتی ھیں.

مختلف قسم کی پراثر گواہیاں سن کر دل باغ باغ ھوجاتاھے متمہ نظر مذھبی لوگوں پر تنقید کرنا نہیں فروغ شعور ھے مثال کے طور پر اگر پادری صاحب ایک اسٹیڈیم میں اعلان کریں کینسر کے مریض سامنے آجاٸیں ھم ان کے لیۓ دعا کریں گے دعا کے ساتھ پادری صاحب دوسرا اعلان یہ کریں کہ جتنے لوگ اس بیمار بھاٸی بہن کے علاج کے لیۓ ھدیہ دینا چاھیں اور جو ھدیہ جمع ھو اس سے بیمار بھاٸی بہن کا علاج کرواٸیں اور دعا جاری رکھیں کے جوبھی ڈاکٹر اس مریض کا علاج کرے خدا اس کے ھاتھوں کو برکت دے تو یقین جانیں اس مریض کو خداوند نے ھی شفا دینی ھے وسیلہ پادری صاحب بنیں گے.

جو کام خدا کے خادم کا ھے وہ خدا کا خادم کرے اور جو کام ڈاکٹر کا وہ ڈاکٹر کو کرنے دیجۓ کیونکہ ڈاکٹر کے ھاتھ میں بھی شفا خدا ھی نے رکھی ھے یقین جانیۓ جب غربت کے مارے ھوۓ لوگ ادھار کرایہ مانگ کر دوا لینے کی بجاۓ شفاٸیہ عبادت میں ایک امید لیکر جاتے ھیں اور واپس آکر دواٸی بھی چھوڑ دیتے ھیں تو جلد ھی یہ شفا بانٹنے والے خادم ان کے خاندان کو تسلی دیتے نظر آتے ھیں کہ” بھاٸی جی جو خدا کی مرضی“ خدا کی مرضی اس میں ھے کہ کوٸی مریض غربت کی وجہ سے بے علاج نہ رھے اگر پولیو ویکسین ایجاد کرنے والا ساٸنسدان اسی سوچ کے تابع ھوتا جس کے تابع آج خدا کے خادم ھیں تو آج پولیو کی وجہ سے لاکھوں بچے معذور ھوتے،

Monday, October 14, 2019

ساٸبر کراٸم, احتیاط کجیۓ




تحرير:لعذر اللہ رکھا ایڈووکيٹ

آپکا ایک غلط کلک آپکو موت کے منہ میں لے جا سکتا ھے۔


آجکل سوشل میڈیا کا جادو سر چڑھ کر بول رھا ھے، خاصکر نوجوان نسل کو سوشل میڈیا کی لت نشے کی حد تک لگ چکی ھے، شہروں سے لیکر دورہ افتادہ گاوُں تک فیس بک، واٹس اپ مسینجر کا دن رات بے دردی سے استعمال کیا جارھا ھے,اور یہ انسان کا بنیادی حق بھی ھے،جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا بری بات نہیں اس کا غلط استعمال بری بات ھے، آج کل زیادہ تر توھین مذھب کے کسیز کی بڑی وجہ فیس بک،واٹس اپ ،ای میل اور مسینجر کا غلط اور احمکانہ استعمال ھے اور یہ کیسز توھین آمیز پوسٹس کی وجہ سے رجسڑڈ ھورھے ھیں، سمارٹ فونز پر لاپرواھی اور غفلت کی بنا پر حالیہ دور میں متعدد ایف آٸی آر ھوٸی ھیں، آپ کے سمارٹ فون سےلاعلمی یا بےاحتیاطی سے اگر کوٸی توھین آمیز مواد لاٸک یا شیٸر ھوا تو آپ اپنے ساتھ اپنے خاندان اور پوری برادری کو جان لیوا مصیبت میں ڈال لیں گے ،ھر شخص کو پتہ ھونا چاھیے کہ تمام مقدس ھستیوں کی شان میں توھین آمیز کنٹینٹ لاٸک کرنا، پوسٹ کرنا شٸیر کرنا سنگین جرم ھے، اور پریوینشن آف الیکٹرونک کراٸم ایکٹ2016 کے تحت اس کی سزا،سزاۓ موت تک ھوسکتی ھے.

 ایف آٸی اے اس کا تفتیشی ادارہ ھے، اور اگر کسی بھی طریقے سے آپ کا سمارٹ فون اس جرم کا ارتکاب میں پایا گیا تو سمجھیں جیل کی کال کوٹھری آپ کی منتظر ھے اور لمبے عرصہ تک آپ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ھیں،

اس ضمن میں چند احتیاطی تدابیر:-

فیس بک واٹس اپ میسنجر پر کسی مذھبی گروپ میں ایڈ نہ ھوں، اگر ھیں تو فوری نکل جاٸیں۔کسی بھی قسم کے فیس بک یا واٹس اپ پر مذھبی گروپ کے ایڈمن نہ بنیں،کسی بھی مذھبی بحث میں حصہ نہ لیں نہ لاٸک کریں اور نہ شٸیر کریں۔کسی بھی توھین آمیز مواد کو فوری اپنے اکاونٹ ڈی پی اور گیلری سے ڈیلیٹ کردیں، اور سینڈر کو مستقل بلاک کر دیں، اپنا فیس بک اور واٹس اپ اکاونٹ اپنی گیلری بھی توھین مواد سے صاف رکھیں۔کسی فرقہ وارانہ تقریر لیکچر اور وڈیو کو پسند نہ کریں۔اپ لوڈ اور نہ ھی ڈاون لوڈ کریں۔کوٸی ھتک آمیز کومنٹ نہ کریں اور نہ کسی کے بھی مذھبی جذبات کو ٹھیس پہنچائیں۔اپنی فرینڈ لسٹ مختصر اور سلجھے لوگوں تک محدود رکھیں، غیر ضروری فرینڈز کو ڈیلیٹ کرنا شروع کریں۔

مذھبی سکالر بننے کی کوشش نہ کریں، اور نہ ھی مذھبی اشتعال دلانے والی پوسٹ کریں جنونی اور انتہا پسند لوگوں کو فالو نہ کریں چاھیۓ مسیحی عالم ھی کیوں نہ ھوں، تمام مذاھب کی مقدس ھستیوں کا احترام آپ کی قانونی، اخلاقی اور مذھبی ذمہ داری ھے. ذرا سے لاپرواھی اور بے احتیاطی سے آپکا سمارٹ فون آپ کے لٸے پھانسی کا پھندہ بن سکتا ھے۔پلیز شٸیر کجیۓ۔


Monday, September 23, 2019

مسیحی طلاق کے ریاستی قانون کی مخالفت کیوں؟



کافی عرصے کے بعد مسیحی سوشل ایشو پر لکھ رہی ہوں. ہر مسیحی رائیٹر یا نان رائیٹر کی وال پر یہی لکھا مل رہا ہے کہ بائبل کا قانون اٹل ہے سو اس کے خلاف کوئی قانون نہیں بنانا چاہئے.

اب ریاست پاکستان مسیحی طلاق کے قانون کو ریاستی قانون کے تحت بنانا چاہ رہی ہے کیونکہ اب تک یہی دیکھا گیا ہے کہ مسیحی طلاق کا مرحلہ کتنا کھٹن ہے.

کلیسیا نے کلیسائی سطح پر اس مسلے کو نپٹنے یا کم کرنے کے لیے کبھی کوئی قدم نہیں اٹھایا؟ سال میں شاید ایک بار کلیسیا میں اس موضوع پر کلام سنا دیا ہو گا کسی کلیسیا میں. اب جب ریاست نے اس مسلے میں دکھ اٹھانے والوں کے لیے قانون سازی کی تو سب اعتراض کرنے لگے ہیں.

میرا سوال یہ ہے کہ آپ عدالتی قوانین کو ٹھیک کرنے کی بجائے اپنا قبلہ کیوں درست نہیں کرتے؟ چرچز میں ایسی تعلیم کیوں نہیں دیتے کہ یہ نوبت ہی نہ آئے اور اگر آئے بھی تو چرچز میں ایسا نظام یعنی کونسلینگ وغیرہ کا نظام کیوں متعارف نہیں کرواتے؟ کیوں کلیسیا کو خاندان سمجھتے ہوئے اپنے مقدمے غیروں کو پاس لے کر جانے دیتے ہیں؟

مجھے ایوبی دور کی بنیادی جمہوریت کے کئی قانون بہت پسند ہیں اور انہیں میں سے ایک قانون طلاق کے بارے میں بھی تھا جس میں ضلح اور تحصیل کی سطح پر ایسے لوگوں کے لیے جو طلاق چاہتے تھے کونسلینگ کا نظام متعارف کروایا گیا تھا کہ مقدمہ عدالت میں جانے سے پہلے کونسلینگ کے مراحل میں سے گزرے. اور اس طرح بہت سے طلاق کے مقدمے یہی صلح پر حل ہو جایا کرتے تھے.

اب چرچ اپنی کمزوری پر واویلا مچانے کی بجائے اپنا تعلیم نظام درست کرے تو بہتر ہو گا. اور پلیز اس ریاستی قانون کو مسیحیت کے خلاف نہ سمجھیں. مسیحیت ایسے قانونوں کی وجہ سے ہرگز ختم ہونے والی نہیں.

تحرير:
شیزا نذیر



Friday, September 20, 2019

پاکستان ميں مسيحی اور ديگرمذھبی اقليتوں کی صورتحال، ايک جائزھ ۱۹۴۷ تا ۲۰۱۸



پاکستان ميں مسيحی اور ديگر مزھبی اقليتوں کی موجودہ صورتحال نيز عوامل و وجوھات.

۱۱اگست ۱۹۴۷ کو بانی پاکستان قايداعظم محمد علی جناح نے آئين ساز اسمبلی سے خطاب ميں فرمايا,

’’آپ سب آزاد ھيں اپنے مندروں ميں جانے کے ليے، آپ سب آزاد ھيں اپنی مسجدوں ميں جانے کے ليے اور کسی بھی عبادت گاھ ميں جانے کے ليے۔ اس مملکت پاکستان ميں آپکا تعلق کسی بھی  مزھب، ذات يا عقيدے سے ھو مملکت کا اس سے کوئیسروکار نھيں۔‘‘

مزيد فرمايا,

’’ھم ايسے دنوں ميں شروع کر رھے ھيں جھاں کوئی امتيازی سلوک نھيں ھے، ايک کميونٹي اور دوسرے کے درميان کوئی فرق نھيں، کسی ذات يا مزھب کے درميان کوئی تعصب نھيں ھے۔ ھم اس بنيادی اصول کے ساۃ شروع کر رھے ھيں کہ ھم سب شھری ھيں، ايک رياست کے برابر کے شھری۔‘‘

قايداعظم کا يہ خطاب اْنکی پاکستان کے ليے بنيادی نظريے ، ترجيھات کو ظاھر کرتا ھے اور اْس وقت کی مسيحی سياسی قيادت نے قا يداعظم کے ان الفاظ پہ يقين کيا اورقيام پاکستان کی غيرمشروط حمايت کرتے ھوے اپنے فيصلہ کن ووٹ کاسٹ کيے۔  ليکن بد قسمتی سے قايداعظم کی وفات کے بعد پاکستان ميں بسنے والے  مسيحی اورديگر مذاھب کے افراد کی صورتحال ميں جوتبديلياں رونما ھوئی  اُنکی تفصيل کا مختصر جائزھ اُوپرشيعرکی گئی ويڈيوپيغام کی صورت ميں موجود ھے۔ 



مزيد جاننے کے لے ويڈيوديکھيں!